Newsreach Viral
found historical International بین الاقوامی تاریخی سیرت وسوانح صفحہ اول ملی

محمدبن قاسم قسط نمبر:11

محمدبن قاسم  قسط نمبر:11 38

تحریر: محمد کاشف محمود سیالوی، پاکستان

اگلی رات پھر اسی وقت یعنی آدھی رات کے وقت ایک لڑکی کی چیخیں بلند ہونے لگی جو گزشتہ رات کی طرح بڑی ہی کرخت تھی اور اس کے ساتھ ہی آگ کے شعلوں بگولوں کی صورت میں شہر کے اوپر اوپر چکر کھانے اور اڑنے لگے، لوگ گزشتہ رات کی طرح گھروں میں دبک گئے مندروں میں گھنٹیاں گھنٹے اور سنکھ بجنے لگے۔
رات خوف وہراس میں گزر گئی ،صبح لوگ پھر مندروں میں چلے گئے ان ہندوؤں میں بدھ مت کے جو تھوڑے سے پیروکار تھے وہ اپنی عبادت گاہ میں گئے اور اس کے ساتھ ہی سارے شہر میں اس قسم کی باتیں سنی سنائی جانے لگیں کہ شہر میں کوئی ناپاک لوگ آگئے ہیں، اور یہ بھی کہ شہر کے حاکم نے مسلمانوں کے خلاف نہ لڑنے کا جو فیصلہ کیا ہے یہ غلط معلوم ہوتا ہے، اور دیوتا سب کو خبردار کر رہے ہیں۔
دن کے وقت لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے کہ لڑکی کی چیخیں سنائی دینے لگی ،شہر کے درمیان کی جگہ خالی تھی ان میں بعض جگہ کھلے میدانوں جیسی تھی ایسی کئی جگہوں سے زمین سے آگ کے فوارے پھوٹے اور کچھ دور اوپر تک چلے گئے، یہ شعلے پانی کے فوارے کی طرح خاصہ اوپر تک جا رہے تھے لوگ کام کا چھوڑ کر اپنے گھروں کو بھاگنے لگے ،ماؤں کو اپنے بچوں کا ہوش نہ رہا اور کسی کو یہ بھی خیال نہ آیا کہ یہ تو دیکھیں کہ یہ جو چیخیں سنائی دے رہی ہیں یہ کہاں سے اٹھ رہی ہیں اور چیخنے والی کون ہے؟
رات آئی لوگ گہری نیند سوئے ہوئے تھے کہ یہ چیخیں پھر ابھرنے لگیں ایسا لگتا تھا جیسے چیخنے والی کوئی ایک ہی ہے اور وہ ہوا میں اڑ رہی ہے، اس رات ہوا میں پھر وہی آگ کے بگولے اڑنے لگے اور اس کے ساتھ ہی کئی جگہوں سے زمین سے آگ فواروں کی طرح نکلنے لگی یہ سلسلہ روزمرہ کی طرح کوئی ایک گھنٹہ جاری رہا اگلے روز بڑے مندر کا پنڈت دو پنڈتوں کو ساتھ لے کر سندر شمنی کے یہاں گیا۔
مہاراج!،،،،،،،بڑے پنڈت نے سندر سے کہا۔۔۔ ہم تین راتیں سوئے نہیں ہیں ،چنگاریاں چل کر دیکھیں ہم نے وہ تجربے کار نجومیوں اور جوتشوں کو بلایا ہے، انہوں نے اپنا حساب کتاب کیا ہے اور ہم نے اپنے طریقے سے معلوم کیا ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے، وہ اور ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ ہمارے دیوتاؤں کا اشارہ ہے کہ ہم اس شہر کی حفاظت میں اپنی جان لڑا دیں، ہمیں یہ اشارہ بھی ملا ہے کہ اس شہر کی زمین میں مہارشیوں اور مہنتوں کی ہڈیاں کی راکھ دفن ہے، ہم نے سنا ہے کہ آپ نے یہ شہر ایک کچّے اور غلط مذہب کے لوگوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ،آپ کا مذہب معلوم نہیں کیا کہتا ہے اگر آپ غور کریں تو آپ کا مذہب بھی اجازت نہیں دے گا کہ کسی ایسے مذہب کے لوگوں کو اس شہر میں آنے دیا جائے جو مذہب ہمارے مذہبوں کے بالکل الٹ ہے، نجومی اور جوتشی کہتے ہیں کہ حاکم اپنے فیصلے پر اڑا رہا تو اس شہر کو تباہی سے کوئی بھی نہیں بچاسکے گا ،مہاراج لوگوں پر رحم کریں کئی لوگ شہر چھوڑ کر کہیں اور چلے جانے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔
مجھے سوچنے دو ۔۔۔سندرشمنی نے دبی دبی زبان سے کہا۔۔۔ ذرا سوچنے دو ۔
پنڈتوں کے جانے کے بعد سندر نے ابن یاسر کو بلایا اور اسے بتایا کہ پنڈت اسے کیا بتا گئے ہیں اور وہ کیا سوچ رہا ہے۔
میں اگر تم لوگوں سے کہو کہ تم سب یہاں سے چلے جاؤ تو تم کیا کرو گے۔۔۔ سندر نے ابن یاسر سے پوچھا ۔۔۔میں نے ابھی کوئی فیصلہ تو نہیں کیا لیکن مجھے شہر کے لوگوں کا خیال آتا ہے میں نے تمہارے سالار کی اطاعت انہی لوگوں کو امن و امان میں رکھنے کے لیے قبول کی ہے، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ میرا مذہب لڑنے کی اجازت نہیں دیتا ،اب لوگوں پر یہ جو آفتاب آن پڑی ہے۔
آپ صرف تین دن انتظار کریں ۔۔۔ابن یاسر نے کہا ۔۔۔مجھے امید ہے کہ اس آفت کو ہم ختم کردیں گے۔
تم اسے کس طرح ختم کر سکتے ہو؟،،،، سندر نے کہا۔۔۔ تم اس طاقت کا مقابلہ کس طرح کرسکتے ہو جو کسی کو نظر ہی نہیں آتی؟
صرف تین دن حاکم نیرون!،،،،، ابن یاسر نے کہا ۔۔۔صرف تین دن۔

ابن یاسر کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ سندر اور محمد بن قاسم کے درمیان رابطے کا کام کرے، وہ اسی وقت کھانے پینے کا کچھ سامان لے کر روانہ ہو گیا وہ ان دنوں کا واقعہ ہے جن دنوں محمد بن قاسم ارمن بیلہ میں تھا اور دیبل کی طرف کوچ کی تیاریاں کررہا تھا ۔
ابن یاسر کے سامنے ایک سو میل سے زیادہ فاصلہ تھا اور اس کے پاس صرف تین دن تھے وہ اپنے سربراہ شعبان ثقفی کو نیرون کی صورتحال بتانے اور رہنمائی لینے کے لیے جا رہا تھا ،وہ مان نہیں رہا تھا کہ نیرون پر دیوتاؤں کا قہر نازل ہو رہا ہے، وہ مسلمان تھا اور مسلمان کے لئے دیوتا کوئی معنی نہیں رکھتے کہ ان کا وجود ہے۔
وہ دوپہر سے کچھ پہلے نیرون سے نکلا تھا اور آدھی رات سے کچھ دیر پہلے منزل پر پہنچ گیا، اس کی منزل اس کی طرف بڑھی آرہی تھی، وہ اس طرح کے محمد بن قاسم نے حکم دے دیا تھا کہ الصبح تمام فوج دیبل کی طرف کوچ کرے گی، کوچ اندھا دھن نہیں کیا جاتا تھا کچھ آدمی مسافروں کے بہروپ میں آگے بھیج دیے جاتے تھے جو آگے کے تمام علاقے کو دیکھتے جاتے تھے، یہ دشمن کا علاقہ تھا اور محمد بن قاسم دو قلعہ فتح کر کے تیسرے قلعے کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا ،یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی تھی کہ دشمن کی فوج قلعوں میں دبکی بیٹھی ہوگی، توقع یہ تھی کہ راجہ داہر کے دستے گھات میں ہونگے اور شب خون بھی ماریں گے،
ان خطروں کے پیش نظر محمد بن قاسم کی فوج کے کچھ آدمی رات کو ہی آگے دیبل کی طرف چلے گئے تھے جو کہ جنگی لحاظ سے یہ علاقہ نازک اور خطرناک تھا، اس لئے ان آدمیوں کے ساتھ شعبان ثقفی خود ساتھ گیا تھا، یہ پارٹی ارمن بیلہ سے کئی میل دور آ گئی تھی انہیں ایک گھوڑے کی ٹاپ سنائی دیے شعبان ثقفی نے اپنے آدمیوں کو راستے سے ہٹا کر بٹھا دیا اور اپنی طرف بڑھتے ہوئے گھوڑے کا انتظار کرنے لگا ،گھوڑا تیز رفتار سے آ رہا تھا جب قریب آیا تو شعبان ثقفی نے راستے میں آکر اسے روک لیا اور فوراً ہی دوسرے آدمیوں نے اٹھ کر اسے گھیرے میں لے لیا۔
کون ہو ؟،،،،شعبان ثقفی نے پوچھا ۔۔۔کہاں جا رہے ہو؟
شعبان ثقفی نے عربی میں بات کی تھی اس کے ساتھ مکران کا رہنے والا ایک آدمی تھا جو عربی بولتا اور سمجھتا تھا ،اس نے سندھی زبان میں شعبان ثقفیی کا سوال دہرایا ۔
میں ابن یاسر ہوں۔۔۔ وہ گھوڑے سے کود آیا۔۔۔ میں نے اپنے استاد کی آواز پہچان لی تھی ،آپ کہاں یہاں کیسے؟
فجر کی نماز کے فوراً بعد دیبل کی طرف پیش قدمی ہو رہی ہے۔۔۔ شعبان ثقفی نے کہا۔۔۔ تم جانتے ہو ہم آگے کیوں جارہے ہیں، ہراول دستے چل پڑے ہوں گے، تم کیسے آئے کوئی خاص خبر ہے؟
ابن یاسر نے اپنے شعبے کے سربراہ شعبان ثقفی کو بتایا کہ نیرون میں کیا ہو رہا ہے ، اور یہ بھی بتایا کہ سندر کو راجہ داہر نے بلایا اور اس پر زور دیا تھا کہ وہ اطاعت قبول کرنے والا معاہدہ توڑ دے لیکن وہ انکار کر آیا ہے۔
میں اب یہ پوچھنے آیا ہوں کے نیرون میں جو پراسرار آگ شہر کے اوپر گھومتی ہے یہ کیا ہوسکتا ہے؟،،،،،،ابن یاسر نے پوچھا ۔۔۔اور ہمیں کیا کرنا چاہیے، اگر ہم نے ایک دو دن اور کچھ نہ کیا تو نیرون ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔
آؤ ابن یاسر!،،،،، شعبان ثقفی نے اسے راستے سے ہٹا کر بٹھا لیا اور بولا ۔۔۔میں تمہیں بتاتا ہوں آگ کے یہ گولے کہاں سے آتے ہیں ۔
شعبان ثقفی نے اسے سارا معاملہ سمجھایا اور بتایا کہ وہ اپنے ساتھیوں کو ساتھ ملا کر کیا کرے۔
مجھے ابھی واپس چلے جانا چاہیے ۔۔۔ابن یاسر نے اونگھتی ہوئی آواز میں کہا۔۔۔ مجھے گھوڑا بدل دیں، میں نے اپنے گھوڑے کو آرام کی مہلت نہیں دی تھی۔
میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں بھی آرام کی ضرورت ہے ۔۔۔شعبان ثقفی نے کہا ۔۔۔تم گھوڑے کی پیٹھ پر سو جاؤ گے، لیکن ابن یاسر ہم سو گئے تو ہماری تاریخ بھی اور قوم کی تقدیر بھی سو جائے گی، اسلام کو ہماری قربانی کی ضرورت ہے، جا میرے رفیق اللہ تیرے ساتھ ہے۔
ابن یاسر تازہ دم گھوڑے پر سوار ہوا اور ایڑ لگا دی، ریگستان کی کھنک اور خاموش رات میں کچھ دیر تک اس کے گھوڑے کے ٹاپ سنائی دیتے رہے اور رات پھر خاموش ہوگئی۔

اگلے دن کا پچھلا پہر تھا جب ابن یاسر نیرون میں داخل ہوا اور اپنے ساتھیوں کے کمرے میں گیا، وہ اتنا تھکا ہوا تھا کہ چارپائی پر گرتے ہی سو گیا، اس کے گھوڑے کے جسم سے پسینہ یوں ٹپک رہا تھا جیسے گھوڑا پانی سے نکل آیا ہو۔
آدھی رات سے کچھ پہلے پھر وہ چیخیں سنائی دینے لگی کسی لڑکی بچی کی معلوم ہوتی تھی، یہ تو ہر رات کا معمول بن گیا تھا ابن یاسر نے بہت سو لیا تھا اس کے ساتھی جاگ اٹھے اور اس کی بھی آنکھ کھل گئی چیخوں کے ساتھ فضا میں گڑگڑاہٹ بھی سنائی دے رہی تھی جو فضا میں گھومتی پھرتی محسوس ہوتی تھی۔
ابن یاسر اچھل کر اٹھا اور تلوار نکالی، میرے ساتھ آؤ دوستوں!،،،،، اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا ۔۔۔آج کے بعد یہ آگ کے بگولے نظر نہیں آئیں گے۔
اس کے پانچوں ساتھی تلوار اٹھائے اس کے پیچھے نکل گئے مندر کے گھنٹے اور پنڈتوں کے سنکھ بج رہے تھے اوپر آگ کے بگولے گھوم رہے تھے اور ان میں چلتی ہوئی چکی جیسی آوازیں آرہی تھیں، شہر کا کوئی ایک بھی فرد باہر نظر نہیں آرہا تھا، چاند افق سے کچھ اوپر اٹھ آیا تھا یہ پورا نہیں رہا تھا ،اس کی چاندنی میں دور تک دیکھا جا سکتا تھا۔
ابن یاسر کے دو دنوں کی غیر حاضری میں پراسرار آگ کے بگولوں اور چیخوں کا یہ سلسلہ چلتا رہا تھا اور دن کو ایک آدھ گھنٹے کے لیے زمین سے آگ اور پانی کے فوارے نلکتے تھے، مکان خالی ہو گئے تھے لوگ شہر سے چلے گئے تھے، پہلے پہل جب یہ پراسرار اور خوفناک سلسلہ شروع ہوا تو بعض لوگ گھروں سے نکل آتے تھے لیکن دو دنوں سے انہوں نے باہر آنا چھوڑ دیا تھا۔
ابن یاسر بڑے مندر کی طرف جا رہا تھا اور وہ اپنے ساتھیوں کو بتاتا جا رہا تھا کہ شعبان ثقفی نے اسے کیا بتایا ہے، وہ جوں جوں مندر کے قریب ہوتے جا رہے تھے آواز اور زیادہ بلند ہوتی جا رہی تھی، یہ چیخیں مندر کے اندر ہیں یا مندر کے چبوترے پر۔۔۔ ابن یاسر نے اپنے ساتھیوں سے کہا ۔۔۔اور یہ کسی جن یا ہندوؤں کی دیوی کی چیخیں نہیں یہ انسانی چیخیں ہیں، اور ہمیں چیخنے والی کو پکڑنا ہے۔
ابن یاسر !،،،،،اس کے ایک ساتھی نے کہا ۔۔۔تم غیبی مخلوق کو تو ہاتھ ڈالنے نہیں جارہے؟،،،، میں ڈر سا محسوس کر رہا ہوں کہ تم آسمانی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے ہو۔
تم میں سے جس کسی کے دل پر ذرا سا بھی خوف ہے وہ سورہ فاتحہ کا ورد کرتا رہے۔۔۔ ابن یاسر نے کہا۔۔۔ قرآن کے سامنے کوئی غیبی مخلوق یا آسمان کی آگ نہیں ٹھہر سکتی نہ دل پر کوئی خوف رہتا ہے ۔تین مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ کر اس کے یہ الفاظ “ایاک نعبدو و ایاک نستعین” ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں” دہراتے رہو ۔
اس کے ساتھیوں نے یہ ورد شروع کر دیا ،اور وہ مندر کی طرف بڑھتے گئے۔

ابن یاسر اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کشادہ گلی میں داخل ہوگیا جو کچھ آگے جا کر ختم ہو جاتی تھی اور وہاں سے کوئی پچاس گز آگے مندر تھا، چاند کچھ اور اوپر آ گیا تھا اور اس کی شفاف چاندنی مندر پر پڑ رہی تھی، جب یہ چھ عرب گلی میں سے نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک لڑکی جس کی عمر کا کوئی اندازہ نہیں ہوسکتا تھا مندر کے چبوترے کی سیڑھیاں چڑھتی اور چینختی جارہی تھی، چبوترے پر جاکر وہ مندر کے بڑے دروازے کی طرف دوڑی اندر سے دو آدمی نکلے انہوں نے لڑکی کو بازو سے پکڑا اور اسے گھسیٹ کر چبوترے کی سیڑھیوں تک لائے اور اسے اٹھا کر سیڑھیوں سے نیچے چھوڑ دیا ،لڑکی کی چیخیں اور زیادہ کرخت اور بلند ہوگئی اور وہ پھر سیڑھیاں چڑھنے لگی۔
مندر کے اندر سے جب دو آدمی نکلے تھے تو ابن یاسر اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک درخت کی اوٹ میں ہو گیا اور بیٹھ گیا تھا، لڑکی سیڑھیاں چڑھنے لگی لیکن تیسری یا چوتھی سیڑھی سے اس کا پاؤں پھسل گیا اور وہ پھر نیچے آ پڑی، اس دوران شہر کے اوپر آگ کے بگولے اڑ رہے تھے، ایسی ہیبت ناک حالت میں اپنے دل کو مضبوط رکھنا خاصا مشکل تھا، دل کی مضبوطی کے لئے عرب کے یہ چھ مجاہد اللہ کے کلام کا ورد کر رہے تھے۔
لڑکی کے قد اور جسم سے پتہ چلتا تھا کہ وہ کوئی جوان لڑکی نہیں وہ بارہ چودہ سال کی بچی معلوم ہوتی تھی ،وہ چیختی ہوئی اٹھی اور سیڑھیاں چڑھ گئی ،وہ مندر کی طرف چلنے لگی تو اس کی چیخیں خاموش ہوگئیں اور وہ گر پڑی، اس کے ساتھ ہی فضا میں آگ کے جو گولے اور بگولے اڑ رہے تھے وہ غائب ہو گئے اور نیرون کی رات بالکل خاموش ہوگئی ایسا لگتا تھا جیسے یہ شہر نہیں بلکہ قبرستان ہے۔
مندر میں سے وہی دو آدمی باہر آئے انہوں نے لڑکی کو اٹھایا اور اندر لے گئے۔
ابن یاسر اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کر مندر کے سامنے سے اوپر جانے کی بجائے ایک طرف سے اوپر گیا ،پہلے وہ خود بڑے دروازے میں داخل ہوا یہ ایک راہداری تھی جو سرنگ کی مانند تھی، آگے کچھ روشنی نظر آرہی تھی، یاسر نے اپنے ساتھیوں کو اشارے سے بلایا اور سرگوشی کی کہ کسی قسم کی آواز پیدا نہ ہو ،وہ راہداری کی دیوار کے ساتھ ایک قطار میں دبے پاؤں بڑھتے گئے اندر سے ایک دو آدمیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، آگے جاکر راہداری کے ساتھ دائیں اور بائیں سے تاریک راہداریاں ملتی تھیں، ابن یاسر آگے بڑھتا گیا ،بولنے کی آوازیں آگے تھیں۔
وہ ایک دروازے تک پہنچ گئے یہ ایک کشادہ کمرہ تھا اس کے فرش پر چٹایاں بچھی ہوئی تھیں، درمیان میں ایک چبوترا تھا جس پر ایک بت بیٹھا ہوا تھا اور یہ بالکل عریاں تھا ،دیواروں کے ساتھ تراشے ہوئے پتھروں کے اسی قسم کے اور بھی بت تھے، اس کمرے کی چاروں دیواروں میں ایک ایک دروازہ تھا ،اس کمرے کے دو دیواروں میں مٹی کے دیئے رکھے ہوئے تھے جو جل رہے تھے۔
ابن یاسر اپنے ساتھیوں کے آگے آگے تھا کسی کی باتیں سنائی دے رہی تھی، یاسر دیوار کے ساتھ ساتھ ایک دروازے کے قریب گیا یہ ایک اور کمرہ تھا جو زیادہ کشادہ نہیں تھا ،یہ شاید پنڈتوں کا رہائشی کمرہ تھا، عبادت والا کمرہ شاید کسی اور طرف تھا ،اس رہائشی کمرے میں تین چار دیے جل رہے تھے، کوئی دریچہ اور کوئی روشن دان نہیں تھا،اندر جلتے ہوئے تیل کی بدبو تھی ،اس رہائشی کمرے میں چار آدمی تھے اور دو جوان اور بڑی ہی خوبصورت لڑکیاں تھیں، یہ سب گول دائرے میں بیٹھے تھے ان کے درمیان بارہ تیرہ سال عمر کی سنولے رنگ کی ایک لڑکی بیٹھی ہوئی تھی، اس کا چہرہ مریضوں جیسا تھا ،اس کی آنکھوں سے اور ہر طرف دیکھنے کے انداز سے پتہ چلتا تھا کہ اسے کہیں سے زبردستی اٹھا کر لائے ہیں، اور اس پر دہشت طاری ہے، ایک پنڈت نے ہاتھ بڑھا کر اس کے سر پر رکھا اور اس کا ماتھا چوما جیسے یہ اس کی بچی ہو۔
ایک لڑکی نے ایک پیالا اٹھا کر اس کے ہونٹوں سے لگایا معلوم نہیں اس پیالے میں کیا تھا لڑکی بےتابی سے پینے لگی جب وہ پی چکی تو اس نے رونا شروع کردیا ۔۔۔مجھے چھوڑ دو اس نے روتے روتے کہا۔۔۔ مجھے گھر جانے دو ۔۔۔اس نے اپنے سینے پر ہاتھ پھیر کر کہا۔۔۔ میرے اندر آگ لگی ہوئی ہے۔
چونکہ روشنی اتنی زیادہ نہیں تھی اور ابن یاسر دروازے کے ساتھ اس طرح لگا کھڑا تھا کہ اندر والوں کو اچھی طرح نظر نہیں آتا تھا، اور چونکہ اندر والے لڑکی کے ساتھ الجھے ہوئے تھے اس لیے وہ دروازے کی طرف نہ دیکھ سکے، ابن یاسر نے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا اور دروازے میں کھڑے ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا، اس کے جواب میں ان چھ عرب مجاہدوں نے اتنی زور سے اللہ اکبر کہا کہ مندر جیسے ہل گیا ہو، مندر کے کمرے بند سے تھے ان چھے مجاہدین کی گرج کچھ دیر مندر کی محدود اور مقید فضا میں آگ کے بگولوں کی طرح گھومتی اور برستی رہی۔ مجاہد بڑی تیزی سے اندر گئے اور ان سب کو گھیرے میں لے لیا مندر کے اندر بیٹھے ہوئے آدمی اس قدر ڈر گئے تھے کہ ان کے منہ سے آواز بھی نہیں نکلی تھی۔
سب لوگ دیوار کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔۔۔ ابن یاسر نے کہا۔
وہ سب دیوار کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ ان میں تین تو صاف طور پر پنڈت نظر آتے تھے چوتھا آدمی عجیب سے حلیے کا تھا، اور دو جوان لڑکیاں اور ایک یہ چھوٹی بچی تھی ۔
ابن یاسر نے اپنے ساتھی کو جو سندھ کی زبان بولتا اور سمجھتا تھا اپنے پاس بلا کر کہا کہ میری ان کے ساتھ باتیں کراؤ ۔اسکے ساتھی نے ترجمانی شروع کردی۔
چھوٹی لڑکی دوڑ کر ابن یاسر کی ٹانگوں سے لپٹ گئی اور وہ رو رو کر کہنے لگی کہ یہ لوگ اسے گھر سے اٹھا لائے ہیں۔
یہ تمہیں کیا کہتے ہیں؟،،،، ابن یاسر نے کہا۔
لڑکی نے اس آدمی کی طرف دیکھا جو پنڈت نہیں لگتا تھا، پھر اس نے بازو لمبا کر کے اس آدمی کی طرف اشارہ کیا لیکن اس کے ساتھ وہ ابن یاسر کی ٹانگوں میں سکڑنے لگی۔ جیسے بہت ہی ڈری ہوئی ہو، اس آدمی کی شکل و صورت تھی ہی بڑی ڈراؤنی ،اس کا چہرہ خودرا اور کرخت تھا ،اس کی داڑھی بھی تھی جس کے آدھے بال سفید تھے اس نے مونچھیں مروڑ کر اوپر کو کی ہوئی تھیں، اس کی آنکھیں گہری سرخ تھیں،اس کے سر پر پگڑی نما ٹوپی سی تھی، اس کے بازوؤں میں چوڑیوں جتنے بڑے رِنگ تھے جو شاید لکڑی کے بنے ہوئے تھے، اس نے سیاہ کپڑے کا لمبا سا چغہ پہن رکھا تھا، اس کے گلے میں موٹے منکوں کی مالا تھی، یہ آدمی کسی پہلو مذہبی پیشوا نہیں لگتا تھا اور وہ تھا ہی نہیں۔
ابن یاسر نے جھک کر لڑکی کو اٹھایا اور اسے اپنے ساتھ لگا کر پیار کیا اور دلاسہ دیا اور کہا کہ وہ کسی سے نہ ڈرے۔
یہ شخص مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیتا تھا ۔۔۔لڑکی نے بتایا۔۔۔ ایک ہاتھ سے میرا سر پکڑ لیتا تھا اور دوسرا ہاتھ آہستہ آہستہ میرے ماتھے پر پھیرتا تھا ،پھر میری آنکھوں میں دیکھتا تھا دیکھتے دیکھتے میرے جسم کے اندر جلن شروع ہوجاتی تھی، یہ اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ میری چیخیں نکلتی تھیں، یہ پنڈت مجھے گھسیٹ کر کسی نہ کسی گلی میں چھوڑ آتے تھے مجھے اتنی ہی ہوش ہوتی تھی کہ میں مندر کی طرف بھاگتی تھی، اور مجھے گھسیٹ کر پھر باہر پھینک آتے تھے، کبھی تو مجھے ہوش ہی نہیں رہتی تھی جب میں ہوس میں آتی تھی تو جلن کم ہونے لگتی تھی، پھر یہ مجھے شربت پلاتے تھے اور میرے ساتھ پیار کرتے تھے، مجھے یہاں سے لے چلو یہ آدمی مجھے کھا جائے گا۔

میرے دوستوں!،،،،، ابن یاسر نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔۔۔ شعبان نے مجھے یہی بتایا تھا، اس نے کہا تھا کہ ڈرنا نہیں یہ اس ملک کی شعبدہ بازی معلوم ہوتی ہے ،دل مضبوط کرکے اس میں کود جانا ،شعبان نے یہ بھی کہا تھا کہ تم اسلام کے مجاہد ہو اور تمہارے پاس بڑا ہی زبردست تعویذ ہے جس کے سامنے کوئی جادو اور کوئی شعبدہ نہیں ٹھہر سکتا،،،، یہ ڈراؤنی شکل والا ادمی جادوگر ہے۔
ابن یاسر نے یہ بات عربی زبان میں کی تھی جسے پنڈت وغیرہ نہ سمجھ سکے، اور ابن یاسر کے ساتھیوں کے حوصلے بڑھ گیئے، ابن یاسر نے مندر کے ان آدمیوں کو اور دونوں لڑکیوں سے بھی کہا کہ وہ آگے ہو کر جھک جائیں ان کی گردنیں اڑائیں جائیں گی۔
ڈراونی شکل والے آدمی نے دونوں ہاتھ بلند کرکے کچھ بڑبڑانا شروع کر دیا اس سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اپنا جادو چلانا چاہتا ہے ،ابن یاسر نے اس کے اوپر اٹھے ہوئے بازوؤں میں سے ایک پر بڑی زور سے اپنی تلوار ماری پھر اس کے منہ پر بڑی زور سے گھونسا مارا وہ پیچھے دیوار کے ساتھ جا لگا، ابن یاسر کے دونوں ساتھیوں نے اسے پکڑ کر پیٹھ کے بل گرلیا، اس کے سینے پر پاؤں رکھ کر تلوار کی نوک اس کی شہ رگ پر رکھ دی۔
کیا تم جادوگر ہو؟،،،،،ابن یاسر نے پوچھا، یاشعبدہ باز ہو فوراً بولو، ورنہ گردن کٹ جائے گی ۔
اس نے ہاتھ جوڑے اور سر ہلایا جیسے اس نے اعتراف کیا کہ وہ شعبدہ باز ہے۔
پنڈت الگ کھڑے کانپ رہے تھے اور رحم کی بھیک مانگ رہے تھے، ابن یاسر نے اس خطے کی زبان بولنے والے ساتھی سے کہا کہ ان پنڈتوں سے کہو کہ انہیں زندہ نہیں چھوڑا جا سکتا ،اور ان کی لاشیں شہر سے دور پھینک آئیں گے جہاں انہیں صحرا کے درندے کھائیں گے۔
ابن یاسر کے اس ساتھی نے جب پنڈتوں کی زبان میں انہیں بتایا کہ ابن یاسر نے کیا کہا ہے تو پنڈت اس قدر خوفزدہ ہوئے کے تینوں نے گھٹنے ٹیک کر ہاتھ جوڑے، بڑا پنڈت اٹھا اور ابن یاسر کے ساتھی کو الگ لے گیا، اور اس کے کان میں کچھ کہا، اس ساتھی نے ہنستے ہنستے ابن یاسر کو بتایا کہ یہ پنڈت کہہ رہا ہے ان دونوں لڑکیوں کو لے جاؤ اور اس کے ساتھ یہ ہمیں بہت سا سونا اور رقم دے گا، اس کے عوض جان بخشی چاہتے ہیں۔
ابن یاسر نے شعبدہ باز کو گرایا ہوا تھا جب اس کرخت صورت آدمی نے سر ہلا کر اعتراف کر لیا تو ابن یاسر نے اسے اٹھایا ،ابن یاسر کے کہنے پر اس نے کہا کہ وہ بتائے گا کہ یہ سب کیا ہے، بلکہ کر کے بھی دکھا دے گا۔
یہاں نہیں ۔۔۔۔ابن یاسر نے کہا ۔۔۔سب حاکم نیرون کے پاس چلو اور اس کے سامنے بتاؤ کہ تم یہ شعبدہ کس طرح کررہے تھے اور اس کا مقصد کیا تھا ۔
ان سب کو سندرشمنی کے پاس لے جایا گیا وہ سویا ہوا تھا اسے جگایا گیا اور بتایا گیا کہ پراسرار آگ کا معمہ حل ہو گیا ہے۔

ابن یاسر نے حاکم نیرون سندر کو بتایا کہ وہ کہاں چلا گیا تھا اور وہاں سے کیا ہدایات لایا تھا ،پھر وہ کس طرح ان پر اسرار آگ کے بگولوں اور چیخوں کے دوران مندر میں داخل ہوا، اور اس نے کیا دیکھا ،ابن یاسر کے کہنے پر پہلے چھوٹی لڑکی نے بتایا کہ اس کے ساتھ یہ لوگ کیا عمل کرتے تھے، پھر شعبدہ باز سے کہا گیا کہ وہ بولے، سندر نے اسے کہا کہ اس نے ذرا سی بھی جھوٹ بولا تو اسی وقت اس کے دونوں بازو کاٹ دیے جائیں گے اور اسی حالت میں اسے دور پھینک آئیں گے۔
شعبدے باز نے بڑے اطمینان سے اپنا آپ ظاہر کردیا اور جو کمال وہ دکھا رہا تھا وہ بھی اس نے بیان کیا اس نے بتایا کہ اس سارے ملک ہند میں صرف تین آدمی ہیں جو یہ کام کر سکتے ہیں۔
یہ آگ جو آپ لوگ شہر کے اوپر گھومتی پھرتی دیکھتے رہے ہیں یہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔۔۔ اس نے کہا ۔۔۔یہ بے ضرر چیز ہے اسے آپ نظر کا دھوکا بھی کہہ سکتے ہیں ،لیکن یہ ایک علم ہے جسے حاصل کرنے کے لیے اپنے من کو اور اپنے جسم کو ایسی تکلیفوں میں رکھنا پڑتا ہے جو ہر آدمی برداشت نہیں کرسکتا ،اس آگ سے کسی ایک آدمی کو یا اس کے گھر کی کچھ چیزوں کو جلایا جا سکتا ہے ،لیکن اس آگ میں یا اس آگ کا شعبدہ دکھانے والے کسی بھی جادوگر میں اتنی طاقت نہیں کہ اس سے وہ کسی بستی کو جلا دے، اور وہ آگ جو فوارے کی طرح زمین سے پھوٹتی تھی وہ بھی کوئی آگ نہیں تھی جادو کا کرشمہ تھا، اسی طرح پانی کے جو فوارے پھوٹ دے رہے ہیں ان میں اگر آپ ہاتھ رکھتے تو آپ کے ہاتھ خشک رہتے، اس پانی میں پانی والا کوئی وصف نہیں تھا۔
تم نے شعبدہ بازی یہاں آکر کیوں کی؟۔۔۔ حاکم نیرون نے پوچھا۔
دولت کی خاطر ۔۔۔شعبدےباز نے جواب دیا۔۔۔ مہاراج داہر میں ایک اپنے جیسے مہاراجہ دوست سے کہہ کر مجھے اپنے پاس بلوایا تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ نیرون کے حاکم اور لوگوں کو ڈرانا ہے، انہوں نے ایک آدمی میرے ساتھ بھیجا تھا اس آدمی نے ان پنڈتوں کو بتایا تھا کہ جب میں اپنے علم کا یہ کمال دکھاؤں گا تو پنڈت شہر میں کیا پرچار کریں گے اور آپ کے پاس آکر کیا کہیں گے، مہاراج نے مجھے اتنا زیادہ انعام دینے کو کہا تھا جو میری سات پشتو کے لئے کافی تھا۔
اس معصوم بچی کو تم کیوں جلاتے رہے ہو؟،،،،،، سندر نے کہا۔
اس عمر کے بچے کو خواہ لڑکی ہو یا لڑکا ایک خاص طریقے سے استعمال کرنا پڑتا ہے۔۔۔ اس نے جواب دیا ۔۔۔یہ لڑکی اپنے ماں کے ساتھ مندر میں آئی تھی اتفاق سے میں نے اسے دیکھا تو پنڈت جی مہاراج سے کہا کہ یہ لڑکی زیادہ موزوں ہے لڑکی چلی گئی اور شام کو ایک پنڈت نے معلوم نہیں کس طرح اسے اٹھا لایا،،،،، مہاراج یہ ہمارا علم ہے میں آپ کو سمجھا نہیں سکتا کہ اس عمر کے بچے کو کس طرح اس شعبدے کا ذریعہ بنایا جاتا ہے ،ایسے انسانی ذریعے کے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتا، اگر کسی خاندان کو پریشان کرنا ہو تو اس خاندان کے کسی ایک فرد پر یہ عمل دور بیٹھ کر کیا جاتا ہے، اسے ایک دورہ سا پڑتا ہے پھر اس گھر پر جادوگر یا شعبدہ باز پتھر گراتا چاہے ان کی چیزوں کو آگ لگانا چاہے یا جو بھی کرنا چاہے کرتا ہے،،،،،، میں آپ کو الفاظ میں نہیں سمجھا سکتا اگر مہاراج اجازت دیں تو میں کر کے دکھا سکتا ہوں ،آپ شہر کے اوپر آگ کے بگولے دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ دکھا دوں گا ،زمین سے آ گ یا پانی دونوں پھوٹتے دیکھنا چاہتے ہیں تو دکھا دوں گا۔
ہم جو دیکھنا چاہتے ہیں وہ دیکھ لیا ہے۔۔۔ سندر نے کہا ۔۔۔۔تم اس شہر سے نکل جاؤں لیکن اپنی وطن کا رخ کرو اروڑ کی طرف نہ جانا۔
حاکم نیرون!،،،،، ابن یاسر نے کہا ۔۔۔اسے ابھی جانے نہ دیں ،ضرورت یہ ہے کہ شہر کے لوگوں کو بتایا جائے کہ یہ کوئی آسمانی آفت نہیں تھی، صبح سارے شہر میں منادی کرا کے تمام لوگ ایک میدان میں جمع ہو جائیں اور انہیں اصل حقیقت دکھائی جائے گی، صبح ہونے میں تھوڑی سی دیر باقی تھی سندر نے حکم دیا کے ابھی منادی والے بلا لیے جائیں اور لوگوں کو فلاں میدان میں جمع کیا جائے۔
جب سورج طلوع ہوا تو نیرون شہر کا بچہ بچہ ایک میدان میں آ گیا تھا ،سندرآیا اس کے ساتھ یہ شعبدہ باز اور پنڈت تھے، سندر کے کہنے پر ایک آدمی کی آواز بہت بلند تھی آگے کیا گیا اسے بتا دیا گیا تھا کہ اس نے کیا کہنا ہے، اس نے لوگوں کو بتایا کہ جسے وہ آسمانی آفت سمجھتے رہے ہیں وہ شعبدہ تھا اور یہ سیدھے سادے امن پسند لوگوں کو ڈرانے کے لیے اور انہیں جنگ میں جھونکنے کے لئے دکھایا جا رہا تھا ،اور اب ان کے سامنے یہ شعبدہ دکھایا جا رہا ہے لوگوں سے کہا گیا کہ وہ ڈرے نہیں ،شعبدہ باز سے کہا گیا کہ وہ اپنا کمال دکھائے، اس بچی کو بھی وہاں بلایا گیا لوگوں سے کہا گیا کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں اور میدان کے درمیان بہت سی جگہ خالی چھوڑ دیں۔
شعبدہ باز نے لڑکی کے سر پر ایک ہاتھ رکھا دوسرا ہاتھ اس کے ماتھے پر پھیرنے لگا اور چند لمحوں بعد لڑکی نے تڑپنا اور چیخنا شروع کر دیا ،اس کے ساتھ ہی فضا میں آگ کے آٹھ دس بگولے گرنے اور اڑنے لگے، لوگ ڈر کر پیچھے ہٹنے لگے انہیں کہا گیا کہ وہ نہ ڈریں،
شعبدہ باز نے دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کیے اور آسمان کی طرف منہ کرکے کچھ بڑبڑایا آگ کے بگولے غائب ہو گئے اور میدان سے آگ کا فوارہ یا لمبوترا شعلہ اوپر کی طرف جانے لگا، جیسے زمین سے آگ پھوٹ رہی ہو، اس سے تھوڑی دور پانی کا فوارہ پوٹا ان دونوں فواروں کی بلندی کم و بیش بیس گز تھی۔
ابن یاسر آگے بڑھا اور ان فواروں کی طرف چلا گیا پہلے وہ آگ کے فوارے میں سے گزرا آگے جاکر وہ واپس آیا اور پانی کے فوارے سے گزرا ،اسے نہ آگ نے جلایا نہ پانی اسے بھیگو سکا، واپس آکر اس نے سندر کو بتایا کہ آگ اور پانی میں جا کر اسے نہ تپش محسوس ہوئی نہ ٹھنڈک۔
بچی چیخ رہی تھی اس کی ماں اس کے باپ کے ساتھ دوڑتی ہوئی آئی اور دونوں اپنی بچی کے پاس جانے لگے لیکن شعبدہ باز نے انہیں روک دیا تھوڑی دیر بعد بچی کی چیخیں بند ہوگئیں وہ گر پڑی اور آگ اور پانی کے فوارے غائب ہو گئے۔
لوگوں کو ایک بار پھر بتایا گیا کہ انہیں کیوں اور کس نے خوفزدہ کیا ہے، اس شعبدہ باز کو نیرون سے نکال دیا گیا۔
پنڈت جی !،،،،،مہاراج سندرشمنی نے پنڈتوں سے کہا ۔۔۔۔جو مذہب شعبدہ بازی کا سہارا لیتا ہے وہ لوگوں کے دلوں میں اپنے خلاف نفرت پیدا کرتا ہے ،،،،جاؤ میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔

712 عیسوی 92ہجری کے ایک جمعہ کے روز محمد بن قاسم اپنی فوج کے ساتھ دیبل کے مضافات میں پہنچ گیا ،شعبان ثقفی نے اسے یہ رپورٹ دی تھی کہ راستہ صاف ہے اور راجہ داہر کی فوج کا ایک بھی آدمی نظر نہیں آیا ،اس طرح اسلامی فوج بڑی اچھی رفتار سے دیبل پہنچ گئی تھی، راجہ داہر کی فوج کا کوئی آدمی باہر ہو ہی نہیں سکتا تھا کیوں کہ اس نے تمام قلعےداروں کو حکم بھیج دیا تھا کہ قلعہ بند ہو کر لڑنا ہے اس نے سختی سے کہا تھا کہ اپنے دستوں کو باہر لا کر کھلے میدان میں نہیں لڑنا۔
مؤرخوں کے مطابق محمد بن قاسم نے ارمن بیلہ سے حجاج بن یوسف کو پیغام بھیج دیا تھا کہ وہ فلاں روز دیبل کی طرف کوچ کر رہا ہے، حجاج بن یوسف نے اسے پہلے ہی پیغام بھیج دیا تھا جس میں اس نے لکھا تھا کہ جب تک وہ نہ کہیے لڑائی شروع نہ کی جائے، حجاج نے لکھا تھا کہ دشمن دشنام طرازی اور طعنہ زنی کرے تو بھی مشتعل ہوکر حملہ نہیں کرنا، ان تحریروں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حجاز نے بصرہ میں بیٹھ کر سندھ کے محاذ کو اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا تھا۔
محمد بن قاسم جمعہ کے دن دیبل کے مضافات میں جمعہ کی نماز سے کچھ وقت پہلے پہنچ گیا ،اس کے حکم سے ایک بلند آواز مجاہد نے ایک اونچی جگہ کھڑے ہوکر اذان دی ،اس سرزمین پر یہ پہلی اذان تھی، نماز کے وقت تمام لشکر نماز کے لئے صف بصف ہو گیا اس دور کے دستور کے مطابق امامت محمد بن قاسم نے کی، کیونکہ وہ سپہ سالار تھا اور سپہ سالار ہی امامت کے فرائض سرانجام دیتا تھا، تاریخ اسلام کے اس کمسن مجاہد نے جمعہ کا خطاب دیا۔
،،،،،، اور عہد کرو اللہ تبارک وتعالی سے کہ اس زمین پر ہماری یہ نماز آخری نہیں ہوگی، اور دعا کرو کہ خدائے ذوالجلال ہمارے رکوع و سجود قبول فرمائے، راہ شہادت کے ہمسفروں ہم واپس جانے کے لیے نہیں آئے، ہم اللہ کا پیغام لے کر آئے ہیں جو اس ملک کی آخری سرحدوں تک پہنچانا ہے، اور ہم بے گناہ قیدیوں کو رہا کرانے آئے ہیں جنہیں کفار نے قید خانے میں بند کررکھا ہے، اس راجہ نے اسلام کی غیرت کو للکارا ہے اور یہ راجہ بے بہرہ ہے کہ اسلام کے پاسبان جب آتے ہیں تو وہ اسلام اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں اور اسلام واپس جانے کے لئے نہیں آیا کرتا،،،،،
یاد کرو ان عظیم مجاہدین کو جن کی قبروں کی مٹی ابھی خشک نہیں ہوئی، یہ کل کا واقعہ ہے کہ انہوں نے کسی میدان میں شکست نہیں کھائی تھی، انہوں نے قیصر روم کی جنگی طاقت کا گھمنڈ توڑا کر اس کی سلطنت کی سرحدیں سمیٹ دی تھیں، مدائن میں کسریٰ کے محل ہمارے باپوں کے فاتحانہ نعروں سے آج بھی لرز رہے ہیں ،سیاہ چٹانوں جیسے ہاتھیوں کو کاٹنے اور میدان جنگ سے بھگانے والے مجاہدین کو یاد کرو فارسیوں اور رومیوں جن شہنشاہیت کی جنگی طاقتیں دہشت ناک تھی آج دیکھو ان دونوں کی سرحدیں کتنی دور پیچھے چلی گئی ہیں ،ان بچھو کا زہر کس نے مارا تھا ،تم جیسے مجاہدین نے، اور آج جس راجہ نے ہمیں یہاں آنے پر مجبور کیا ہے یہ قیصر روم کی برابری کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا ،فارسیوں کا عشر عشیر بھی نہیں ،خدا کی قسم میں تکبر نہیں کر رہا جن کے تم بیٹھے ہو اور جن کے پوتے ہو وہ غیرت و حمیت والے تھے ،جوان اور شجاعت والے تھے۔
میں امیر بصرہ حجاج بن یوسف کا پیغام تم تک پہنچاتا ہوں، اللہ تعالی کا ذکر ہر وقت کرتے رہو اللہ سے مدد اور فتح کے طلبگار رہو، اور جب لڑائی سے مہلت ملے تو لاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم کا ورد کرتے رہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔
حجاج بن یوسف کی ہدایات کے مطابق محمد بن قاسم نے دیبل کے قلعے کے کچھ قریب جاکر اپنی فوج کو خیمہ زن کیا اور خیمہ گاہ کے ارد گرد ایک خندق کھدوائی جو بارہ گز چوڑی اور چھ گز گہری تھی، حجاج نے اسے لکھا تھا کہ رات کو بیدار رہنا ہے تاکہ دشمن بے خبری میں حملہ نہ کر دے، حجاج نے خاص طور پر لکھا تھا کہ جو لوگ قرآن پڑھ سکتے ہیں وہ قرآن پڑھتے رہیں اور انہیں قرآن پڑھائے جو نہیں پڑھ سکتے، تلاوت قرآن کے علاوہ نفل پڑھتے رہیں اور خیمہ گاہ کے اردگرد سنتری گھومتے پھرتے رہیں۔
محمد بن قاسم نے راتوں کی عبادت کا یہ سلسلہ شروع کردیا ہر رات خیمہ گاہ سے تلاوت قرآن کی مقدس اور مترنم آوازیں بلند ہوتیں، اور سندھ کی فضا میں تیرتی دور دور تک جا پہنچتی تھی، اس کے ساتھ ہی سپاہی سے لے کر سالار تک نوافل پڑھتے تھے ساری رات خیمہ گاہ مشعلوں سے روشن رہتی تھیں، لیکن اصل روشنی نور خدا کی تھی جسے وہی محسوس کر سکتے تھے جو اپنے وطن سے دور بے گناہ قیدیوں کو چھڑانے آئے تھے،اور ساری دنیا کو یہ بتانے آئے تھے ،،،،،کیوں کر خس و خاشاک سے دب جائے مسلماں۔۔۔اس دوران دن کے وقت دیبل کے قلعے سے ایک دو دستے باہر آتے اور مسلمانوں پر حملہ کرتے لیکن خندق انہیں آگے نہیں آنے دیتی تھی، ہندوؤں کے یہ دستے تیر برساتے تھے محمد بن قاسم کے لئے حکم تھا کہ وہ کوئی جوابی کارروائی نہ کرے لیکن دشمن کے تیر انداز کو پیچھے ہٹانے کے لئے تیراندازی ضروری تھی ،حجاج کا مقصد یہ تھا کہ اپنی فوج ان چھوٹی چھوٹی جھڑپوں میں اپنی توانائی ضائع نہ کرے، دشمن یہ چاہتا تھا کہ مسلمانوں کو قلعے سے باہر ہی الجھا کر رکھا جائے، محمد بن قاسم نے یہ ساری صورتحال سمجھتے ہوئے خیمہ گاہ میں رہنا ہی بہتر سمجھا۔ آخر ایک روز بصرہ سے حجاج کا پیغام آیا کہ دیبل کو محاصرے میں لے لیا جائے اور اس قلعے کو فتح کرنے کے لیے جو اقدام ضروری ہے وہ جانوں کی قربانی دے کر بھی کیا جائے۔
محمد بن قاسم اسی حکم کے انتظار میں تھا پیغام ملتے ہی اس نے حکم دے دیا کہ رات کو دیبل کے قلعے کو محاصرے میں لے لیا جائے گا ،خیمہ گاہ قلعے کی دیواروں سے نظر آتی تھیں اس لیے دن کے وقت ایسی کوئی حرکت نہیں کی جاسکتی تھی جس سے یہ پتا چلتا کہ خیمہ گاہ اکھاڑے جارہے ہیں اور مسلمان کوئی کاروائی یا نقل و حرکت کرنے والے ہیں۔ سورج غروب ہوتے ہی خیمہ گاہ میں سرگرمی شروع ہوگئی اور دستے اس طرف سے نکلنے لگے جدھر خندق نہیں کھودی گئی تھی یہ تھوڑی سی جگہ اسی مقصد کے لئے رکھی گئی تھی، اسلامی فوج کے جو دستے باہر نکلتے تھے وہ احکام اور ہدایات کے مطابق قلعے کے اردگرد محفوظ فاصلے پر پھیلتے جارہے تھے، آدھی رات تک محاصرہ مکمل کر لیا گیا اور چھوٹی منجیقیں ایسی جگہوں پر رکھ دی گئیں جہاں سے قلعے کے دروازوں پر اور قلعے کے اندر بھی پتھر پھینکے جا سکتے تھے۔
علی الصبح قلعے کی دیواروں پر گھومتے پھرتے سنتریوں نے اعلان کرنے شروع کر دیے کہ محاصرہ ہو گیا ہے، خبردار ہو جاؤ، اس اعلان سے شہر میں ہربونگ مچ گئی تیرانداز دیواروں پر آ گئے شہر کے جو لوگ لڑنے کے قابل تھے وہ بھی پھینکنے والی برچھیاں اٹھائے دیوار پر پہنچ گئے اور باقی جو تھے وہ بھی لڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔
محمد بن قاسم قلعے کے اردگرد گھوڑا دوڑاتا پھر رہا تھا وہ دیوار کا کوئی نازک مقام دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا ،اس قلعے میں ایک سہولت یہ نظر آرہی تھی کہ اس کے ارد گرد خندق نہیں تھی، اس سے یہ اندازہ ہوتا تھا کہ قلعہ بہت مضبوط ہے، یہ تو محمد بن قاسم نے بھی دیکھ لیا تھا،قلعے کی دیوار عمودی نہیں بلکہ ذرا ڈھلانی بنائی گئی تھی، ایسی دیوار کو بہت ہی خطرناک سمجھا جاتا تھا وہ اس لئے کہ محاصرہ کرنے والے جب دیوار کے قریب جاتے تھے تو دیوار کے اوپر سے وہ صاف نظر آتے تھے اور بڑی آسانی سے تیروں کا یا برچھیوں کا نشانہ بنتے تھے ،ایسی دیوار میں سرنگ بھی نہیں کھودی جا سکتی تھی۔ محمد بن قاسم نے حکم دیا کہ چھوٹی منجیقوں سے شہر کے اندر پتھر پھینکے جائیں ،اس حکم کے ساتھ ہی شہر پر سنگ باری شروع ہو گئی دیوار پر دشمن کے جو تیر انداز تھے انھوں نے بے خوف و خطر تیروں کی بوچھاڑ منجیقوں پر پھینکنا شروع کر دیں ،ان سے منجیقوں والے کئی سپاہی زخمی ہوگئے اس لئے منجیقیں پیچھے کرنی پڑی، اس سے یہ نقصان ہوا کہ پتھر شہر کے اندر نہیں جا سکتے تھے، کیونکہ فاصلہ زیادہ ہو گیا تھا
ہندوؤں نے دلیری کا یہ مظاہرہ کیا کہ قلعے کے پہلو والے ایک دو دروازے کھلتے تھے اندر سے سوار دستے سرپٹ نکلتے اور مسلمانوں پر حملہ کرکے اسی رفتار سے قلعے کے اندر چلے جاتے تھے، مسلمانوں نے ان حملوں کا توڑ کیا قلعے کے باہر لڑائیاں ہوئیں لیکن ہندو سواروں کا انداز یہ تھا کہ وہ جم کر نہیں لڑتے تھے بلکہ شب خون کے انداز سے گھوڑے دوڑاتے ضرب لگاتے اور واپس جانے کی کوشش کرتے تھے، ایسے حملوں میں ان کا نقصان تو ہوتا تھا لیکن وہ اسلامی فوج کا بھی خاصا نقصان کر جاتے تھے۔
محمد بن قاسم نے اپنے سالاروں سے کہا کہ وہ ایسے جانباز سوار الگ کر لیں جو اس وقت قلعے کے اندر جانے کی کوشش کریں جب اندر کا کوئی دستہ باہر آجائے، یہ طریقہ آزمایا گیا لیکن قلعے کے دروازے فوراً بند ہوجاتے تھے ،مسلمان سواروں اور پیادوں نے دشمن کے باہر آنے والے دستوں کو گھیرے میں لینے کی بھی کوشش کی لیکن گھیرے میں لینے کے لیے دیوار کے قریب جانا پڑتا تھا اور اوپر سے ان پر تیروں کا مینہ برسنے لگتا تھا۔

یہ خونریزی کئی دن جاری رہی رات کے وقت کچھ جاں باز آگے دیوار کے قریب بھیج دیئے گئے ان کے پاس دیوار کو توڑنے اور سرنگ کھودنے کا سامان تھا لیکن وہ زخمی اور شہید ہونے کے سوا کچھ نہ کر سکے، کیونکہ رات کو بھی دشمن کے سپاہی دیوار پر چوکس رہتے تھے، وہ اوپر سے تیر بھی چلاتے اور ان جانبازوں پر جلتی ہوئی مشعلیں بھی پھینکتے تھے۔
پھر ایک طریقہ اور آزمایا گیا منجیقوں کو آگے کیا گیا اور ان کے ساتھ بہت سے تیرانداز بھیجے گئے، یہ تیر انداز اپنے سامنے دیوار کے اوپر بہت تیزی سے تیر چلاتے تھے تاکہ اوپر والے تیرانداز سر نہ اٹھا سکیں، اور منجیقوں کو تیروں کا نشانہ نہ بنا سکیں، اس طرح منجیقیں شہر پر پتھر پھینکتی رہیں،
شہر کے اندر کی کیفیت یہ ہو گئی تھی کہ سنگ باری سے خوف وہراس پھیلتا جا رہا تھا لیکن اندر کی فوج اور لڑنے والے شہریوں کے حوصلے اتنے بلند تھے کہ وہ شہر کے لوگوں کا حوصلہ بھی مضبوط کرتے رہتے تھے، شہر میں بہت بڑا مندر تھا جو دیول کہلاتا تھا اسی کے نام پر اس شہر کا نام دیول رکھا گیا تھا جو دیبل بن گیا، اسے ایک بہت اونچے چبوترے پر تعمیر کیا گیا تھا اس کے کئی گنبد تھے جو مسجدوں کے گنبدوں کی طرح گول نہیں تھے بلکہ مخروطی اور چوکور تھے ،ان کے درمیان ایک گنبد تھا جس کی بلندی اتنی زیادہ تھیں کہ کئی میل دور سے نظر آتا تھا ،بعض مورخوں نے اس کی بلندی ایک سو بیس فٹ کے لگ بھگ لکھی ہے، اس گنبد کے اوپر ایک لمبا بانس کھڑا تھا جس کے ساتھ سبز رنگ کا بہت بڑا جھنڈا لہراتا رہتا تھا۔
اس جھنڈے کے متعلق کئی حکایت مشہور تھیں ،جن میں ایک یہ تھی کہ بہت دور سے گزرتے ہوئے مسافر اس جھنڈے کو دیکھ لیتے تھے تو ان کا سفر آسان ہو جاتا تھا، یہ ہندوؤں کا عقیدہ تھا کہ جھنڈا ایک دیوتا نے اپنے ہاتھوں یہاں لگایا تھا، یہ بھی مشہور تھا کہ اس جھنڈے کی وجہ سے دیبل ناقابل تسخیر شہر ہے اور جو کوئی اسے فتح کرنے کی نیت سے آئے گا وہ زندہ نہیں رہے گا اور اس کی فوج تباہ ہوجائے گی، وہ مسلمان سالار عبداللہ بن نبہان اور بدیل بن طہفہ دبیل سے پرے ہی شہید ہوگئے تھے اور دونوں کی فوجوں کو بہت بڑا نقصان اٹھا کر پسپا ہونا پڑا تھا ،اس سے ہندوؤں نے اس حکایت کو عقیدہ بنا لیا تھا کہ دیبل کو کوئی فتح نہیں کرسکتا اور یہ بھی کہ دیبل کی حفاظت دیوتا کر رہے ہیں۔
محمد بن قاسم کو ہندوؤں کے ان عقیدوں کا علم نہ تھا وہ اسے ایک مندر ہی سمجھ رہا تھا۔ اسلامی فوج کی یہ توقع ہزار کوشش کے باوجود پوری نہیں ہوسکتی تھی کہ دیوار کو کہیں سے توڑ لیا جائے گا ،زمین سے دیوار کئی گز چوڑی تھی اور اوپر جاکر یہ تنگ ہوجاتی تھی، پھر بھی یہ اتنی چوڑی تھی کہ تین گھوڑے پہلو بہ پہلو اس پر چل سکتے تھے۔
کئی دن گزر گئے تو ہندوؤں نے دیوار پر کھڑے ہوکر مسلمانوں کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔۔۔ جدھر سے آئے ہو ادھر ہی چلے جاؤ۔۔۔ دیوار کے اوپر سے ایک للکار سنائی دینے لگی۔۔۔ اپنے پہلے دو سالاروں کی موت اور ان کی فوجوں کے انجام سے عبرت حاصل کرو یہ دیوتاؤں کا شہر ہے ان کے قہر سے بچو۔
یہ للکار بار بار سنائی دیتی تھی مسلمان مرعوب تو نہ ہوئے لیکن انہیں یہ خیال ضرور آیا کہ یہ قلعہ جانوں کی بہت بڑی قربانی دے کر ہی سر کیا جا سکے گا۔

સંબંધિત સમાચાર

एक टिप्पणी द्या