Newsreach Viral
found International بین الاقوامی صفحہ اول ملی

نیپالی مسلمان ،تعلیم وتربیت ایک جائزہ

نیپالی مسلمان ،تعلیم وتربیت ایک جائزہ 38

از قلم: محمد طاسين ندوي

نیپال یوں تو ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن اللہ تبارک وتعالی نے ہمالہ کی سب سے بلند چوٹی نیپال میں ہونے کی وجہ سے اس پور عالم میں شہرت سے نوازہ اور یہ فقط اللہ کا فضل ہے کہ لوگ نیپال کو بھی جانتے اور پہچانتے ہیں کیونکہ یہ ایک غریب و نادار ملک ہے
اور غربت و ناداری اس کا مقدر نظر آرہی ہے
آئیے ہم امت مسلمہ کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیایہ دینی اور دنیاوی اصول پر کاربند ہیں ، تعلیم جو کسی بھی سماج کی ترقی اور تہذیب و ثقافت کا آئینہ دار ہوتی ہے اس سے ہمارے نونہالان سے اسلام کتنے قریب ہیں اگر ان مزکورہ باتوں کی کھوج لگائی جائے تو مجھے یہ لکھتے ہوئے بڑی کوفت ہوگی کے ہمارے نوجوان بچے اور بذات خود ہم بحیثیت ذمہ دار و سرپرست کہ اس سے کافی دور ہیں ہمیں بس اس کی فکر کھائے جاتی ہیکہ جلدی سے عمر بڑھے ،
-یارشوت دے کر عمر بڑاھاتے ہیں -ناگریتہ و پاسپورٹ بنواکر کہیں کسب معاش کے لئے روانہ کردیتے ہیں
پس وہ اولاد جس کی تعلیم و تربیت تہذیب و ثقافت کی مسؤولیت باپوں اور ماؤں کے ذمہ تھی وہ سب کہ سب ریال، درھم،دینار، ڈالر،پونڈ،رنکٹ کی نذر ہو کر رہ جاتی ہے، ہھر کچھ دنوں بعد جب ہم والدین بڑی عمر کے ہوتے بوڑھاپے کی دھلیز پر قدم رکھتے ہیں اور ہمت شکشتہ ہوجاتے ہیں تو ان ان پڑھ غیر مھذب اولاد سے یہ آس و امید لگاتے ہیں کہ وہ ہمارے خاطر خواہ خیال رکھے. تو اپنے والدین کی مکمل دیکھ ریکھ اور ذمہ داری اٹھانے والے جگر پارے دس سے بیس فیصد بمشکل تمام سماج و معاشرے میں نظر آتے ہیں پھر آپس میں ناچاقی، شکر رنجی، نفرت،عداوت اور نہ جانے کون کون سی سماجی بیماریاں سر آٹھاتی ہیں اور یہ سب کے سب عموما معاشرہ وسماج کا غیر ایجوکیٹیڈو غیر مھذب ہونے کی وجہ سے معرض وجود میں آتا ہے جس کے ذمہ دار ہم والدین وسرپرست ہیں کیونکہ تعلیم صرف تدریسِ عام ہی کا نام نہیں ہے تعلیم ایک ایسا عمل ہے، جس کے ذریعے سے ایک فرد اور ایک قوم خود آگہی حاصل کرتی ہے، اور یہ عمل اس قوم کو تشکیل دینے والے افراد کے احساس و شعور کو نکھارنے کا ذریعہ ہوتا ہے. یہ نئی نسل کی وہ تعلیم و تربیت ہے جو اسے زندگی گزارنے کے طریقوں کا شعور دیتی اور اس میں زندگی کے مقاصد و فرائض کا احساس پیدا کرتی ہے تعلیم ہی سے ایک قوم اپنے ثقافتی، ذہنی اور فکری ورثے کو آئندہ نسلوں تک پہنچاتی ہے اور اُن میں زندگی کے اُن مقاصد سے لگاؤ پیدا کرتی ہے جنہیں اس نے اختیار کیا ہے. تعلیم ایک ذہنی جسمانی اور اخلاقی تربیت ہے اور اس کا مقصد اونچے درجے کے ایسے تہذیب یافتہ مرد اور عورتیں پیدا کرنا ہے جو اچھے انسانوں کی حیثیت سے اور کسی ملک میں بطور ذمے دار شہری اپنے فرائض انجام دینے کے اہل ہوں ہر دور کے ممتاز ماہرینِ تعلیم کے نظریات کا مطالعہ اسی تصورِ تعلیم کا پتا دیتا ہے.
تو ہم مسلمانان نیپال تعلیم کی تقسیم کے بغیر یہ عہد کریں کہ اپنے نونہالان کو کماؤ پوت بنا کر نہ رکھنا ہے بلکہ سب سے پہلے زیور تعلیم و تربیت آراستہ و پیراستہ کرنا اور تہذیب و ثقافت سیکھانا ہے پھر ایک عمدہ سماج و معاشرہ وجود میں آئیگا ان شاء اللہ تعالی … واللہ علی کل شیئ قدیر

સંબંધિત સમાચાર

एक टिप्पणी द्या