Newsreach Viral
historical religious top-10 تاریخی صفحہ اول مذہبی

علم نجوم کی شرعی حیثیت

علم نجوم کی شرعی حیثیت 38

تحریر: محمد ہاشم اعظمی مصباحی

(نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ)

صحیح بخاری میں قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اللہ تعالی نے ان ستاروں کو تین مقاصد کے لیے پیدا کیا ہے:
۔1) آسمان کی زینت کے لیے۔
۔2) شیاطین کو مارنے اور بھگانے کے لیے۔
۔3) بحروبر میں راہ معلوم کرنے کے لیے۔
جو شخض ان کے علاوہ کچھ اور سمجھتا ہے اس نے غلطی کی اور ہر قسم کی بھلائی سے خود کو محروم کر لیا۔ اور اس نے ایسے امر کا تکلف کیا جس کا اسے کچھ علم نہیں۔
حرب رحمتہ اللہ علیہ کا بیان ہے:قتادہ رحمتہ اللہ علیہ نے منازل قمر کا علم سیکھنے کو مکروہ اور ناپسند گردانا ہے۔
اور ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اس علم کے حصول کی اجازت نہیں دی۔
امام احمد رحمتہ اللہ علیہ اور اسحاق رحمتہ اللہ نے اس علم کے حصول کی اجازت دی ہے۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: مُدْمِنُ خَمْرٍ، وَقَاطِعُ الرَّحِمِ، وَمُصَدِّقٌ بِالسِّحْرِ.)(مسند احمد:3/ 399 وموارد الظمان الی زوائد ابن حبان، ح:1381)
“تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے:
۔1) عادی شراب خور
۔2) قطع رحمی کرنے والا
۔3) اور جادو کر برحق ماننے والا۔
مسائل
۔1) اس بحث سے معلوم ہوا کہ اللہ نے کن مصالح کے پیش نظر ستاروں کو تخلیق فرمایاہے۔
۔2) علم منازل قمر کے بارے میں اہل علم کی آراء مختلف ہیں۔
۔3) مذکور حدیث میں جادو کی تصدیق کرنے پر وعید بھی بیان ہوئی ہے۔
نوٹ
۔(1) علم نجوم کی تین قسمیں ہیں
۔(الف) یہ عقیدہ رکھنا کہ یہ ستارے ازخود مؤثر ہوتے ہیں اور ان کے اثر سے زمینی حوادث رونما ہوتے ہیں۔ ایسا سمجھنا ان کی عبادت کے مترادف ہے۔ اہل علم کا اجماع ہے کہ ایسا عقیدہ کفر اور قوم ابراہیم کے شرک جیسا بڑا شرک ہے۔
۔(ب) علم نجوم کی دوسری قسم کا تعلق علم تاثیر سے ہے یعنی ان کی حرکات، ایک دوسرے سے ان کے قرب و بعد یا ان کے طلوع و غروب سے زمینی حوادث پر استدلال کرنا۔ یہ کہانت یعنی غیب کی خبریں دینے کی مانند ہے۔ ایسا کرنے والے کو نجومی کہا جاتا ہے۔ نجومیوں کو یہ باتیں شیاطین بتاجاتے ہیں۔ یہ قسم بھی حرام ، کبیرہ گناہ اور اللہ تعالی کےساتھ کفر ہے۔
۔(ج) علم نجوم کی تیسری قسم جسے “علم تسییر” کہا جاتا ہے ، اس میں ستاروں کی رفتار وحرکات سے قبلہ اور اوقات یا موسموں و غیرہ کا تعین کیا جاتا ہے، بعض اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے۔
اس لیے کہ یہ لوگ ستاروں کی رفتار و حرکات ، ان کے ایک دوسرے سے قریب ہونے یا دور ہونے، یا ان کے طلوع و غروب سے، محض وقت اور زمانہ کا تعین کرتے ہیں۔وہ ستاروں کی ان حرکات کو کسی کام کے لیے سبب اور اثر قرار نہیں دیتے۔ محض اتنی سی بات کرنے اور اسی مقصد کے لیے ستاروں کا علم حاصل کرنے میں شرعا کوئی قباحت نہیں بلکہ اس کی اجازت ہے۔
۔(2) (صحیح بخاری ،بدء الخلق ،باب فی النجوم)یہ باتیں قرآن کریم میں بھی بیان ہوئی ہیں۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
(وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا(سورة فصلت41: 12))
“ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کیا اور ان کو حفاظت کا ذریعہ بنایا۔”
شیاطین کے مارنے اور بھگانے کے معنی پر بہت سی آیات دلالت کرتی ہیں۔قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول کہ جس نے ستاروں کی تخلیق کا ان تین کے علاوہ کچھ اور مقصد سمجھا اس نے غلطی کی اور اس نے ایسے امر کا تکلف کیا جس کا اس کچھ علم نہیں، اس لیے ہے کہ یہ ستارے اللہ تعالی کی مخلوق ہیں، ہمیں ان کےصرف انھی اسرار کا علم ہو سکتا ہے جن سے اللہ تعالی ہمیں مطلع کرے۔
۔(3)کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا
(وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ(سورة يونس10: 5))
۔“اور اس نے چاند کو روشن بنایا اور اس کی منازل مقرر کی ہیں تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کر سکو”۔
یہ آیت ستاروں کا علم حاصل کرنے کے جواز کی دلیل ہے کیونکہ ان کا علم حاصل کرنے ہی سے اللہ تعالی کی نعمت اور اس کے احسان کا اندازہ ہو سکے گا۔
۔(4) پہلے بیان ہو چکا ہے کہ علم نجوم جادو کی ایک قسم ہے۔
جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہے:
(مَنْ اقْتَبَسَ شُعْبَةً عِلْمًا مِّنَ النُّجُومِ،فَقَدِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِّنَ السِّحْرِ)(سنن ابی داود، الطب، باب فی النحوم، ح:3905 ومسند احمد:1/ 277، 311)
“جس نے علم نجوم کا جتنا حصہ سیکھا اس نے اسی قدر جارو سیکھا۔”
آج کل اخبارات و رسائل اور جرائد میں “ستارے کیا کہتے ہیں؟” کے عنوان سے عموما مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ لوگ ان امور کی حقیقت پر غور نہیں کرتے ۔ ستاروں اور برجوں کی تاثیر کا عقیدہ رکھنا یہی تو “کہانت” ہے۔ ہر علاقہ میں اس کی تردید اور مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔
ایسے رسائل گھروں میں نہ لائے جائیں ، خود پڑھے جائیں نہ کسی کو دیئے جائیں کیونکہ ان ستاروں اور برجوں کا علم حاصل کرنا، اپنی ولادت کے برج کو جاننا اور اپنے موافق ستارے کی معلومات رکھنا ،اس کے متعلق تحریرات پڑھنا ایسے ہی ہے جیسے کسی نجومی کے پاس جاکر اس سے احوال دریافت کیے جائیں ۔ ایسی باتوں کو پڑھ کر ان کو درست سمجھنا اور ان کی تصدیق کرنا کفر ہے۔ والعیاذ باللہ و اللہ اعلم بالصواب

સંબંધિત સમાચાર

एक टिप्पणी द्या