Newsreach Viral
historical National تاریخی سیرت وسوانح صفحہ اول قومی

سلیمان اشرف، شبلی اور تاریخ

سلیمان اشرف، شبلی اور تاریخ 38

تحریر: پٹیل عبدالرحمن مصباحی

آخر یہ کس قسم کے انصاف پسند مؤرخ ہیں کہ ایک طرف تو “الانتقاد” کی شکل میں جرجی زیدان کا جواب لکھنے والے کو نابغۂ روزگار بنا کر پیش کرتے ہیں،
جب کہ دوسری طرف عربی زبان کے خلاف جرجی زیدان کے لسانی فلسفے کو “المبین” لکھ کر چکنا چور کر دینے والے شخص کا دانستہ طور پر نام تک نہیں لیتے، بلکہ موقع ملنے پر اس کی کردار کشی تک کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں.
کیا یہ امتیازی سلوک صرف اس لئے برتا جاتا ہے کہ وہ شبلی ہے اور یہ سلیمان اشرف،ان کا تعلق اعظم گڑھ سے ہے اور یہ بہار کے باشندے، وہ محض جدت پسند ہیں اور یہ جدید خیالات کے ساتھ ساتھ تصلب فی الدین کے داعی بھی؟؟؟
اگر ایسا ہے تو اس قسم کی تاریخ نویسی آیندہ نسل کے لیے نظریاتی تقسیم کا باعث ہوگی اور قد آور علمی شخصیات کے کارناموں پر تعصب کا پردہ ڈال کر انہیں زمانے کی نظروں سے روپوش کرنے کی بدترین کوشش بھی.
خواجہ رضی حیدر نے بجا لکھا ہے، اگر چہ ان کی تحریر براہ راست سر سید سے متعلق ہے مگر یہاں ذکر کرنا فائدے سے خالی نہیں؛
“یہاں افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ علمِ تاریخ کو ہندوستان میں سائنسی بنیادوں پر جن افراد نے استوار کیا، یا تو وہ سر سید احمد خان کے حلقہ اثر میں شامل تھے یا اہل حدیث تھے. اس لئے تاریخ کے صفحات پر کسی ایسے شخص کا نام نہ آ سکا جس نے رد وہابیت یا عدم تقلید کی مذمت میں سرگرمی کا مظاہرہ کیا ہو.
جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ کے وہ طالب علم جنہوں نے حاصل مواد پر اکتفا کیا، آج تک حقیقت ناآشنا ہیں،اور کسی ایسی بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں جو فی زمانہ رائج تاریخی کتابوں میں نہ ہو.”(تذکرہ محدث سورتی، 87)

સંબંધિત સમાચાર

एक टिप्पणी द्या