Newsreach Viral
found historical National top-10 تاریخی صفحہ اول قومی ملی

کیا مسلم بادشاہوں نے جبرا غیر مسلموں کو مسلم بنایا؟

کیا مسلم بادشاہوں نے جبرا غیر مسلموں کو مسلم بنایا؟ 38

از قلم: محمد احمد حسن سعدی امجدی

ہندوستان آج کس قدر نازک ترین حالات سے گزر رہا ہے وہ عالم آشکار ہے، آے دن یہاں مسلمانوں پر طرح طرح کے کذب وافترا اور بہتان عائد کیے جاتے ہیں، جس کا مقصد مسلمانوں کو پوری دنیا میں ذلیل ورسوا کر اسلام کی شبیہ کو مجروح کرنا ہے، اسی گھٹیا سازش کو بروۓ کار لاتے ہوئے کبھی ان کفار کا نشانہ مسلمانوں کی پاکیزہ شریعت ہوا کرتی ہے تو کبھی مسلمانوں کے گزشتہ خلافات، تو کبھی ہماری ہندوستان پر کی گئی 1206 ء سے 1757ء تک مسلم حکومت۔
واضح رہے کہ ہم پر ان کی افترا بازی اور کذب بیانی کی ایک لمبی فہرست ہے، میرے قلم میں اتنی طاقت اور میرے مضمون میں اتنی وسعت نہیں جو ہر ایک پر مفصل روشنی ڈال کر عوام کو اس سے روشناس کرا سکے لیکن آج ان کفار کے ایک اہم منصوبہ کو بے نقاب کرنے کی جسارت کرتا ہوں، جس میں وہ ہمارے گزشتہ مسلم سلاطین پر ہندوؤں کو جبرا مسلم بنانے کی تہمت لگا رہے ہیں اور اس ناپاک اور گھٹیا منصوبہ کے پیش نظر گھر واپسی کے نام پر بھولے بھالے مسلم حضرات کو ہندو بنانے کی مہم کھولے ہوۓ ہیں۔

واضح رہے کہ تاریخ سے ادنی سی واقفیت رکھنے والا شخص بھی بخوبی جانتا ہے کہ اس طرح کے سارے الزامات حقیقت سے کوسو دور محض جھوٹ پر مبنی ہیں۔

اور یہ بات مسلم ہے کہ ایک ایسا ملک جہاں اکثریت کفار و مشرکین کی ہو وہاں ظلم وتعدی ، جبر واستبداد اور امتیازانہ برتاؤ کے ساتھ تقریباً ساڑھے چھ سو سال تک حکومت کرنا ناقابل تصور اور عقل سے نہایت ہی بعید ہے،

اور اگر بالفرض ہم اس بات کو تسلیم کر بھی لیں کہ مسلم سلاطین نے تلوار کی زور سے ہندوستان میں لوگوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا تو عقل سلیم رکھنے والا ہر فرد برجستہ بول اٹھے گا کہ تب تو ہندوستان سے غیر مسلموں کا سرے سےخاتمہ ہو جانا چاہیے تھا، تب تو کسی گوشے میں ایک بھی ہندو بچنا نہیں چاہیے تھا، لیکن معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے، اتنے طویل عرصے حکومت کرنے کے باوجود آج اقلیت میں ہم ہیں، صدیوں حاکم رہنے کے بعد بھی یہ تعداد میں ہم پر فوقیت رکھتے ہیں۔

یہ ساری چیزیں بلا شک وشبہ اس بات کی جانب اشارہ کر رہی ہے، یہ ساری تلمیحات ببانگ دہل اس بات کی معلن ہیں اور الحمد للہ یہ کہتے وقت ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے کہ ہمارے گزشتہ سارے مسلم حکمراں امن و آشتی پر قائم تھے، عدل وانصاف ان کے حکومت کی بنیاد تھی، اپنی پوری رعایا سے بلا تفریق مذہب وملت أخوت و رواداری اور میانہ روی ان کے ثبات واستقلال کا سب سے بڑا ہتھیار تھا، ہر طبقہ کے لوگوں کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گرارنے کی حریت فراہم کرنا ان کا شیوہ تھا،
اور ایسا کیوںکر نہ ہو، کیونکہ رب لم یزل قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے،
لا إكراه في الدين ، سورة البقرة آيت ٢٥٦ . کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں یعنی اسلام قبول کرنے کے لیے کسی پر زور مت ڈالو، کیونکہ ایمان کا تعلق دل سے ہوتا ہے اور زبردستی ، تلوار کے زور سے صرف زبان پر قابض ہوا جا سکتا ہے نہ کہ دل پر۔

البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلم سلاطین کی ذرہ نوازی ، اعلی درجہ کی خاکساری اور عدل و انصاف اور رواداری پر مبنی طرز حکمرانی سے متاثر ہوکر غیر مسلم جوق در جوق ان کی بارگاہوں میں حلقہ بگوش اسلام ہوا کرتے تھے،
لہذا اسے ظلم وجبر سے تعبیر کرنا اعلی درجہ کی حماقت ہوگی۔

اس کے علاوہ آپ تاریخ کی کتابیں اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ مغل حکمران ظہیر الدین بابر نے اپنے بیٹے نصیرالدین محمد ہمایوں کو قبل از موت وصیت کی تھی کہ جہاں تک ہوسکے ہندؤوں کا دل جیتنے کی کوشش کی جاے اور گؤ کشی سے پرہیز کیا جائے۔ (اسلامی مسلمان )

نصیر الدین ہمایوں کے بڑے بیٹے شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر جو صرف نام کا ہی مسلمان تھا، اس نے تو مذہبی رواداری کی خاطر دین الہی کے نام سے خود ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈالی تھی۔
قطب شاہی اور آصف جاہی حکمرانوں نے بھی مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی خاطر کافی تگ ودو کی، جس کا ایک زمانہ قائل ہے۔ (اسلامی مسلمان )

معزز قارئین!
اس کے علاوہ بھی مزید سیکڑوں دلائل و شواہد ہیں جن سے بھارت کے مسلم سلاطین کی اپنی رعایا کے تیئیں بلاتفریق مذہب وملت عدل و انصاف اور میانہ روی کا ثبوت ملتا ہے ، تاہم اس بات کا بھی اندازا ہوتا کہ ہمارا حریف ہمیں بےدست وپا کرنے کے لیے کیسے کیسے پروپیگنڈے اپنا رہا ہے۔

والعياذ بالله.

સંબંધિત સમાચાર

एक टिप्पणी द्या