Newsreach Viral
historical International religious top-10 بین الاقوامی تاریخی صفحہ اول مذہبی

جو عقل کا غلام ہو، وہ دِل نہ کر قبول

جو عقل کا غلام ہو، وہ دِل نہ کر قبول 38

تحریر: فردین احمد خان رضوی

چیف ایڈیٹر: النجم اسلامک میڈیا، پیلی بھیت شریف

الله تبارک و تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے ہمیں اسلام اور پیغمبر اعظم صلى الله عليه وسلم کے ذریعے رشد و ہدایت عطا فرمائی- یہ بات یقینی ہے کہ بندہ اپنی عقل کے ذریعے سے ذاتِ باری تعالیٰ کا مکمل ادراک حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی عقل رب العزت کو اپنے احاطے میں لے سکتی ہے- الله جل جلاله تو عقل و گمان سے بالا تر ہے اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے اور کوئی اس کا احاطہ نہیں کر سکتا- اس کا علم غیر متناہی ہے- ہر چیز کو فنا ہے لیکن الله کو فنا نہیں، وہ ازلی ابدی ہے، حی و قیوم ہے-

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں جو ان تمام باتوں کا علم حاصل ہوا ہے، وہ ہماری اپنی تحقیق و جستجو سے نہیں بلکہ رب العالمین کے محبوبِ اکرم صلى الله عليه وسلم کی زبان پاک کے ذریعے ہے- الله تعالیٰ نے خود یہ علم ہمیں اپنے محبوب کے واسطے سے عطا فرمایا تو ہمیں معلوم چلا، ورنہ عقل انسانی میں اتنی قوت نہیں ہے کہ وہ از خود غیبی باتوں کا انکشاف کر سکے- اور نہ ہی عقل کے ذریعے سے کوئی انسان ان باتوں کو دیکھ سکتا ہے، مثلاً کوئی جبریل امین عليه السلام کو بذریعہ عقل نہیں دیکھ سکتا نہ ان کے ہونے کی موجودگی کا پتا لگانے کا کوئی آلہ انسان کے پاس ہے- ہر انسان کے شانوں پر فرشتے اس کے اعمال لکھ رہے ہیں مگر کوئی انسان اپنی قوت سے کبھی انہیں نہیں دیکھ پایا، اور یہ تمام باتیں اس وجہ سے ہیں کہ ان غیبی باتوں کا ادراک عقل سے ممکن ہی نہیں ہے- ان کا علم حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ الله تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو غیبی خبر بھیجے اپنے حبیبِ پاک صلى الله عليه وسلم کے ذریعے- اور اسی غیبی خبر پر ہم اعتقاد کرتے ہیں- قرآن مجید فرقان حمید میں الله سبحانه و تعالیٰ نے اسی قسم کی غیبی اخبار اپنے بندوں کو عطا فرمائی، جنت، دوزخ، میزان، پل صراط، حشر یہ تمام باتیں غیب ہیں-

قدیم یونانی خرافات کا جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے، کہ جب انسان اسلامی فلسفے سے نابلد اور تعلیماتِ پیغمبر سے منحرف ہوتا ہے تو اس کی عقل اسے گمراہ و مضل بنا دیتی ہے- اور جب حقیقی معبود کے در سے وہ اعراض کرتا ہے تو ہزاروں معبودوں کی پرستش شروع کر دیتا ہے۔

 یہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات!

قدیم یونانی لوگ بھی جب الله رب العزت کے در سے پھرے تو جا کر ہزاروں لوگوں کی عبادت میں مصروف ہو گئے- چنانچہ، اولمپس کی پہاڑی پر رہنے والے چند افراد کی بدنی طاقت سے مرعوب ہو کر یونانیوں نے انہیں اپنا معبود تسلیم کر لیا- ان میں زیؤز کو اپنے ارباب کا بادشاہ اور پوسائڈن، ہیڈیز، اس کے بھائی ان لوگوں میں شامل تھے، اسی طرح اگر کسی کو جنگی صلاحیت میں اچھا پایا اسے گاڈ آف وار کا خطاب دے دیا- یہ خطاب برسوں تک ایریز کے پاس رہا- اگر ان لوگوں کی اخلاقی زندگیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان سے زیادہ بد ترین کردار کا حامل شاید ہی کوئی نظر آئے- یہاں تک کہ انہی خرافات میں مذکور ہے کہ جب ایک بادشاہ نے ان خدا کہلانے والے لوگوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تو زیؤز اس کے گھر میں خاموشی سے داخل ہوا جب کہ بادشاہ اولمپس کی چڑھائی میں مصروف تھا اور گھر میں داخل ہو کر بادشاہ کی بیوی کے ساتھ عصمت دری کی اور فرار ہا گیا- بادشاہ نے یہ دیکھ کر حالت غیظ و غضب میں اپنی بیوی کو اس کے ناجائز بچے کے ساتھ پانی میں پھینک دیا- اسی طرح ایک اور قصہ خرافات میں موجود ہے کہ یونانی افراد میں دیوی کا درجہ رکھنے والی اتھینا اس قدر شقی تھی کہ ایک مرتبہ میڈیوسا نام کی عورت تھی جو کہ نہایت حسین و مہ جبین تھی، چند لوگ اس کی عصمت دری کے درپے ہوئے اور وہ بھاگتی ہوئی اتھینا کے گھر میں داخل ہوئی اور اتھینا سے فریاد کی اور اپنی عزت بچانے کی دہائی دی، مگر اس شقی عورت نے اس کی عصمت دری ہونے دی اور یہاں تک کہ اسے ایک دور دراز علاقے میں قید کروا دیا-

اسی طرح سے تاریخ خرافات میں ہمیں درجنوں مثالیں ملتی ہیں جس میں لغو باتوں کی بھرمار ہے- دی ایپل آف ایڈن کہ جو اسے حاصل کر لے اسے انسانی فطرت پر قدرت حاصل ہو جائے، یا دی فاؤنٹین آف یوتھ کہ جو اس میں سے پی لے کبھی بوڑھا نہ ہو، یہ تمام باتیں اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ انسانی عقل اگر آوارہ گردی پر اتر آئے، تو انسان شرافت کے ہر پیمانے سے تجاوز کر کے جانوروں سے بھی بدتر بن جاتا ہے- شرافت اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتی کہ یہی انسان جسے الله تبارک و تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے وہی معبود حقیقی کو چھوڑ کر اپنے خالق و مالک کو چھوڑ کر بدکار فسّاق کی پرستش شروع کر سکتا ہے- مگر تاریخ میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں، نمرود کو ہی لے لیں، وہ خود کو خدا کہلواتا تھا اور عاجزی کا عالم یہ کہ جب حضرتِ خلیل عليه السلام نے کہا کہ میرا رب آفتاب کو مشرق سے نکالتا ہے، اے نمرود اگر اپنے آپ کو خدا سمجھتے ہو تو چلو اسے مغرب سے نکال کر دکھا دو؟ یہ سن کر نمرود کا سارا نشہ اتر گیا اور مبہوت ہو کر رہ گیا- اور یہی حال ہوتا ہے عقل کی آوارگی کے شکار لوگوں کا جب ان پر نور کی چمک پڑتی ہے، وہ آنکھیں بند کر لیتے ہیں کہ ظلمات میں رہنے والوں کو روشنی اچھی نہیں لگتی-

ہر چیز کو عقل کے پیمانے پر تولنا اور پھر عقل کو معیار بنانا ہر جگہ سود مند نہیں ہوتا- قرآن و حدیث کے وہ احکام جو ہمیں ظاہری طور پر سمجھ نہ آئیں، ان میں بھی اس قدر حکمت ہے کہ عقول دنگ رہ جاتی ہیں- ایک طبقہ ایسا بھی روئے زمین پر آیا تھا جس نے قرآن و حدیث کی ہر بات کو ناقص عقل کے پیمانے پر تولا اور جو ان کی سمجھ میں آیا اسے قبول کیا اور جو نہیں آیا اس کی تکذیب کی، یہ فرقہ معتزلہ کہلایا جس کا بانی واصل ابن عطا تھا- اور اسی فرقہ میں بڑے عقلاء گزرے مثلاً زمخشری وغیرہ مگر انہیں راہ ہدایت نہ ملی، وجہ وہی تھی کہ ان کا پیمانہ عقل تھا شریعت نہیں- جب کہ ہر مسلمان کے لئے شریعت افضل ہے اور وہی قابل عمل ہے، چاہے بعض احکامات ہماری ناقص عقول میں آئیں یا نہ آئیں-

اگر عقل کا صحیح استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اسے وہاں لگائیں جہاں غور و فکر کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا، آفاق و انفاس کے مطالعہ کا حکم قرآن نے دیا، آیاتِ ربانی میں غور و تدبر کرنے کا حکم قرآن نے دیا، مع ھذا مظاہر قدرت میں فکر و تفکر کرنے سے خالق کائنات کی معرفت اس کی شانِ خلاقیت معلوم چلتی ہے- جہاں نظر کریں اس کی قدرت کے جلوے ہیں اور ان سب کا مطالعہ، ان میں غور و خوض کرنے کی صلاحیت بھی ہمیں اسی رب العالمین نے عقل عطا فرما کر دی ہے-

معلوم یہ چلا کہ عقل اکسیر ہے اگر شریعت کے دائرے میں رہ کر کام کرے اور زہر ہے جو اس کی حدود سے تجاوز کرے-

الله تبارک و تعالیٰ ہمیں عقل کا صحیح استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیشہ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے- آمين يارب العالمين بجاه النبي الأمين عليه أجمل الصلوة و أكمل التسليم

સંબંધિત સમાચાર

एक टिप्पणी द्या